Friday, December 20, 2013

قرآن میں ہو غوطہ زن اے مردِ مسلماں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اللہ کرے تجھ کو عطا جدتِ کردار


قرآنِ کریم میں قیدیوں کی ایک قسم کے لئے "فی الرقاب" کی اصطلاح آئی ہے۔ اِس کے معنی درحقیقت وہ لوگ ہیں جنہیں دورِ جہالت میں پکڑ کر غلام بنا لیا جاتا تھا۔
اُس دور میں تو فی الرقاب (جن کی گردن میں طوق ڈال رکھا ہو) کی ایک ہی قسم ہوتی تھی لیکن ہمارے اِس دورِ تہذیب میں اِس کی متعدد قسمیں ہیں اور وہ قِسمیں ایسی ہیں کہ اُن کے طوق محسوس طور پر کہیں دکھائی نہیں دیتے۔ حتیٰ کہ جن کی گردنوں میں وہ طوق پڑے ہوتے ہیں، خود انہیں بھی وہ کہیں نظر نہیں آتے۔ لیکن وہ بندھے ہوئے اِس طرح ہوتے ہیں کہ اُن کے جسم تو ۤآزاد ہوتے ہیں لیکن قلب و دماغ اور روح مقید۔
قرآن نے "بندھی ہوئ گردنوں" (فی الرقاب) کے چُھڑانے کو بڑا کارِ خیر بلکہ دین کا بنیادی تقاضا بتایا ہے (90:13)۔
ٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓ
قرآنِ کریم میں ایک اور اہم اِصطلاح مُترفین (مادہ: ت ر ف) ہے۔ مُترفین ایسے لوگوں کو کہتے ہیں جو خوش حالی اور عیش پرستی کی زندگی بسر کر رہے ہوں اور دولت کا نشہ انہیں ایسا بدمَست کر دے کہ وہ اپنی مَن مانی کرتے جائیں اور انہیں کوئی روکنے ٹوکنے والا نہ ہو۔ یہ وہی طبقہ ہے جسے ہمارے زمانے میں سرمایہ دار ، جاگیر دار ، وڈیرہ کہا جاتا ہے ۔ قرآنِ کریم میں ہے کہ جس رسول نے بھی دین کی دعوت دی‘ مترفین کے طبقہ نے سب سے پہلے اور سب سے بڑھ کر اس کی مخالفت کی۔ اس سے واضح ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجا ہو ادینؔ نظامِ سرمایہ داری، جاگیرداری کو ختم کرنا چاہتا تھا‘ اس لئے یہ طبقہ اس کی اس شدت سے مخالفت کرتا تھا ۔ یہی شروع سے ہوتا چلا آیا ہے اور یہی آج بھی ہو رہا ہے۔
واضح رہے کہ قرانِ کریم کی رُو سے مُرفہ الحالی (خوش حالی) کی زندگی اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے ۔۔۔۔۔۔ لیکن خوش حالی او رسرمایہ داری میں بنیادی فرق ہے۔ سرمایہ دار‘ دوسروں کی محنت کی کمائی پر عیش کی زندگی بسر کرتا ہے اور محنت کش طبقہ کی محنت کا استحصال کرکے‘ اسے اپنا محتاج بنا کر رکھتا ہے ۔ اور وہ بے چارے اپنی اس احتیاج اور مجبوری کی وجہ سے‘ اس کے محکوم اور فرمان پذیر رہتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کا نظامِ ربوبیت‘ عالمگیر انسانیت کی خوش حالی چاہتا ہے اور اس طرح کہ اس میں نہ کوئی کسی دوسرے فرد کا محتاج ہو نہ محکوم۔ اس بنا پر ‘ اللہ کا دین اور نظامِ سرمایہ داری ایک دوسرے کی ضد ہی نہیں بلکہ ایک دوسرے کے دشمن ہیں۔ یہی وجہ ہے جو مترفین کی طرف سے اللہ کے دین کی ہمیشہ مخالفت ہوتی ہے۔
اِنہی لوگوں کے لئے قرآنِ کریم کی دوسری اصطلاح اَلْمَلَاءُ (مادہ: م۔ل۔ا) ہے۔ اس کے بنیادی معنی ہیں وہ جن کے برتن ضروریاتِ زندگی سے بھرے ہوئے ہوں۔ اور مفہوم اس سے ہے‘ وہ لوگ جنہیں بکثرت دولت میسر ہو اور وہ اس دولت کی بنا پر قوم کے سردار (صاحبِ اقتدار جیسے ہماریے موروثی سیاستدان) بن جائیں۔ قرآنِ کریم میں ہے کہ دینؔ کی مخالفت میں یہ گروہ پیش پیش رہا ہے۔ اِسے مقصد صرف اپنی سرمایہ داری، جاگیرداری اور اقتدار سے ہے۔ یہی لوگ نظامِ ملوکیت کے اکابرین اور رؤسا‘ اور بادشاہ کے مشیر اور مصاحب ہوتے تھے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 


قرآنِ کریم کی کئی آیات میں دنیاوی زندگی کو لہو و لعبؔ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اس کا غلط مفہوم لینے سے بہت سی غلطیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔قرآنِ کریم‘ دنیاوی زندگی کو بڑی اہمیت دیتا ہے اور اس کی خوشگواریوں کو اللہ تعالیٰ کے انعامات سے تعبیر کرتا ہے۔ وہ اِسے نہایت (SERIOUSLY) لینے کی تاکید کرتا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی وہ یہ کہتا ہے کہ جب کبھی ایسا ہو کہ دنیا کے کسی مفاد یا متاع (سامانِ زیست) اور مستقل اقدارِ خداوندی میں تصادم ہو، ان میں (TIE) پڑ جائے تو اس وقت یہ سمجھو کہ متاعِ دنیا‘ مستقل اقدار کے مقابلہ میں لہو و لعبؔ ہے۔ مستقل قدر کا تحفظ ان کے مقابلہ میں بڑی بیش قیمت متاع ہے۔ اس لئے‘ اُس دنیاوی مفاد کو قربان کرکے‘ مستقل قدر کی حفاظت کرو کیونکہ مستقل اقدار کے تحفظ سے انسان کی حیاتِ اُخروی سنورتی ہے اور حیاتِ اخروی کے مقابلہ میں حیاتِ ارضی بہرحال کم قیمت ہے۔
یہ ہے صحیح مطلب حیاتِ دنیا کے لہو و لعب ہونے کا نہ یہ کہ زندگی فی اصلہٖ بیکار‘ بے مقصد‘ کھیل تماشا ہے۔ قرآن کا یہ مقصد نہیں بلکہ اس نے اس کے برعکس یہ کہا ہے کہ جو لوگ حیاتِ دنیا کو محض کھیل تماشا (لعب) سمجھتے ہیں اور اسے (SERIOUSLY) نہیں لیتے‘ وہ تباہ ہوجاتے ہیں۔


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

Thursday, December 19, 2013

Sector F Bahria Town Lahore Balloting and Map Presentation is scheduled on December 20, 2013 at Bahria Marquee, Bahria Grand Hotel, Bahria Town Lahore

(Second Balloting of Sector F Bahria Town Lahore residential plots is announced - Updated on January 24, 2016)


Bahria Town Management has always avoided to discuss anything about its newly launched projects publicly:
  1. Sector F Bahria Town Lahore
  2. Bahria Golf City
  3. Bahria Green Valley
During last six months at least two dates for balloting of Sector F were announced through dealers - First in June and the second one on December 15 but practically it didn't happen and there was no one available who could let the members know why the balloting on these dates were cancelled or postponed.

The members are desperate to know the location of the Sector F and their plots. I am pleased to share the confirm information of Sector F, Bahria Town Lahore balloting. It is now going to be held on December 20, 2013 at 3:00PM and the venue is Bahria Marquee (Bahria Grand Hotel). Hope Bahria Town Lahore Management would also present complete map of Sector F by tomorrow.


It is import to mention that only those application forms / members would be included in the balloting who have paid all the due installments till December 05, 2013.

Good Luck to Sector F Lahore members!

Tuesday, December 17, 2013

فرقہ بندی اور قرآن (حسین قیصرانی)









اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم کے نازل کرنے کا مقصد یہ بتایا ہے کہ وہ ان تمام اختلافات کو مٹا کر‘ اللہ کا دین قائم کرے گا اور فرقوں اور گروہوں میں بٹے ہوئے انسانوں کو ایک امتِ واحدہ میں تبدیل کر دے گا۔
وَمَآ اَنْزَلْنَا عَلَیْکَ الْکِتٰبَ اِلّاَ لِتُبَیِنَّ لَھُمُ الَّذِی اخْتَلَفُوْا فِیْہِ۔۔۔ (16:64)
(اے رسول صلی اللہ علیہ وسلم!) آپ پر یہ کتاب صرف اس لئے نازل کی گئی ہے کہ جن معاملات میں یہ لوگ آپس میں اختلافات کرتے ہیں‘ آپ ان کی وضاحت کر دیں۔

اس سے یہ حقیقت نکھر کر سامنے آگئی کہ قرآنِ کریم کا اہم ترین مقصد اختلافات کو مٹا کر دین کی وحدت کا قیام ہے۔ قرآنِ کریم نے مسلمانوں سے واضح الفاظ میں کہہ دیا کہ
وَلَا تَکُوْنُوْا مِنَ الْمُشْرِکِیْن O مِنَ الَّذِیْنَ فَرَّقُوْا دِیْنَھُمْ وَ کَانُوْا شِیَعًا کُلُّ حِزْبٍ بِمَا لَدَیْھِمْ فَرِحُوْنَ (30:31-32)۔
اور پھر سے مشرک نہ بن جانا __ یعنی ان لوگوں میں سے نہ ہوجانا کہ جنہوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا‘ اور اس طرح اُمتِ واحدہ رہنے کے بجائے‘ مختلف فرقوں میں تقسیم ہو گئے۔ فرقو ں میں تقسیم ہو جانے کے بعد حالت یہ ہوجاتی ہے کہ ہر فرقہ سمجھتا ہے کہ جس طریقے پر ہم چل رہے ہیں‘ وہی حق اور صداقت کی راہ ہے۔ اس لئے وہ اپنے آپ میں مگن ہو کر بیٹھ جاتا ہے۔
اور رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ارشاد فرمادیا کہ
اِنَّ الَّذِیْنَ فَرَّقُوْا دِیْنَھُمْ وَکَانُوْا شِیَعًا لَّسْتَ مِنْھُمْ فِیْ شَیْءٍ (6:159)
جو لوگ اپنے دین میں تفرقہ پیدا کر دیں‘ اور ایک فرقہ بن کر بیٹھ جائیں‘ اے رسول ! آپ کا اُن سے کوئی تعلق نہیں۔

مسجدِ ضرار
رسولؐ اللہ کے زمانے میں بعض تفرقہ انگیزوں نے ایک نئی مسجد تعمیر کی تو قرآن نے جس شدت سے اس کی مخالفت کی اس کا اندازہ سورہ توبہ کی متعلقہ آیات سے لگ سکتا ہے۔ سنئے ! اور غور سے سنئے کہ قرآن اس باب میں کیا کہتا ہے وَالَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مَسْجِدًا ضِرَارًا ۔۔۔ (9:107) ’’جن لوگوں نے اس غرض سے مسجد تعمیر کرائی کہ اس سے ملت اسلامیہ اور خود دین کو نقصان پہنچایا جائے‘‘ وَ کُفْرًا’’اور کفر کی حمایت کی جائے یا کفر کی روش اختیار کی جائے۔‘‘
وَّ تَفْرِیْقًا بَیْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ۔۔۔ ’’یعنی اس غرض سے کہ مسلمانوں میں تفرقہ پیدا کیا جائے‘‘۔ آپ اس مسجد کو مسجد سمجھتے ہیں؟ یہ مسجد نہیں۔ اِرْصَادًا لِمَنْ حَارَبَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہ‘ مِنْ قَبْلُ۔۔۔ ’’یہ اُس گروہ کے گھات لگانے کے لئے ہے جو اس سے پہلے اللہ اور رسول (نظامِ خداوندی) کے دشمن تھے‘‘۔ یعنی یہ مسجد نہیں بلکہ یہ وہ قلعہ ہے جس کے اندراللہ اور رسول کے دشمن پناہ لے کر دین کو نقصان پہنچانے کی مذموم کوشش کریں گے۔ وَلَیَحْلِفُنَّ اِنْ اَرَدْنَآ اِلَّا الْحُسْنٰی۔۔۔ ’’یہ قسمیں کھا کھا کر کہیں گے کہ اس مسجد کی تعمیر سے ہمارا اِرادہ تو صرف بھلائی ہی ہے‘‘۔ وَ اللّٰہُ یَشْہَدُ اِنَھُمْ لَکٰذِبُوْنَ O ۔۔۔ مگر اللہ گواہ ہے کہ یہ یکسر جھوٹے ہیں۔‘‘ لاَ تَقُمْ فِیْہِ اَبَدًا۔۔۔ ’’اے رسول! آپ اس مسجد میں ایک قدم بھی نہ رکھنا‘‘ (9:107-108)۔ چنانچہ تاریخ اس کی شہادت دیتی ہے کہ رسولؐ اللہ نے صحابہؓ کو بھیج کر اس مسجد کو گروا دیا۔
اس واقعہ سے آپ اندازہ لگایئے کہ اسلام میں فرقہ بندی کس قدر شدید اور سنگین جرم ہے۔
*۔۔۔*۔۔۔*
فرقوں کی کیفیت یہ ہوتی ہے کہ ایک گروہ‘ احکامِ شریعت پر ایک طرح سے عمل کرتا ہے‘ دوسرا گروہ دوسرے طریق سے۔ اور چونکہ ان میں سے ہر گروہ اپنے اپنے طریقِ عمل کی بنیاد ایک خاص عقیدہ پر رکھتا ہے‘ اس لئے عقیدہ اور عمل‘ فرقہ کی بنیاد بن جاتا ہے۔ اس طرح اُمت‘ عملی طور پر ‘ مختلف گروہوں میں تقسیم ہو جاتی ہے۔ یہ ہے جسے قرآنِ کریم نے ’’دین میں فرقہ‘‘ سے تعبیر کیا ہے۔ ولا تکونوا من المشرکینo من الذین فرقوا دینھم۔۔۔ (30:31-32) ۔ ان الذین فرقوا دینھم وکانوا شیعا لست منھم فی شیء۔۔۔(6:160)
دین میں تفرقہ‘ مذہبی فرقوں سے پڑتا ہے اور اس کی زندہ شہادت وہ تفرقہ ہے جو ہمارے موجودہ فرقوں کی وجہ سے اُمت میں پیدا ہوچکا ہے۔اس فرقہ بندی کو قرآنِ کریم نے مذکورہ بالا آیات میں شرک‘ کفر اور رسولؐ اللہ کے ساتھ تعلق ٹوٹ جانے سے تعبیر کیا ہے۔
دین‘ امت کو ایک راستہ پر چلاتا ہے‘ فرقے اس کے لئے مختلف راہیں تجویز کر دیتے ہیں اور اسی سے قرآنِ کریم نے منع کیاہے کہ وان ھذا صراطی مستقیما فاتبعوہ یہ ہے میرا سیدھا راستہ‘ سو تم اسی ایک راستہ کا اتباع کرو۔ ولا تتبع السبل مختلف راستوں کا اتباع مت کرو فتفرق بکم عن سبیلہ(6:153) ایسا کرو گے تو یہ مختلف راستے تمہیں اللہ تعالیٰ کے راستے سے ہٹا کر الگ الگ کر دیں گے۔
*۔۔۔*۔۔۔*
قرآن کے اس قدر واضح اور صریح احکام و ہدایات‘ تنبیہات و تاکیدات کی موجودگی میں‘ اُمت کا فرقوں میں تقسیم ہو جانا یقیناًایک حیرت انگیز واقعہ ہے۔ لیکن اس حقیقت سے کسے انکار ہو سکتا ہے کہ اُمت فرقوں میں تقسیم ہوئی اور یہ فرقے اب تک موجود ہیں۔
یاد رکھئے! وحدتِ امت‘ دین کی بنیادی شرط ہے۔ اگر یہ وحدت باقی نہ رہے تو پھر دین باقی نہیں رہتا۔
*۔۔۔*۔۔۔*
اب آپ فرقہ بندی اور فرقہ سازی کے متعلق قرآنِ کریم کی آیات اور اُن کا مفہوم ملاحظہ فرمائیں:
وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰہِ جَمِیْعًا وَّلَا تَفَرَّقُوْا (3:103)۔
تم سب کے سب مل کر اللہ کی رسی(قرآن) کو مضبوطی سے تھامے رہو اور فرقوں میں مت بٹ جاؤ۔
وَاِنَّ ھٰذِہٖٓ اُمَّتُکُمْ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً وَّ اَنَا رَبُّکُمْ فَاتَّقُوْنِ(23:52)۔
اے رسولو! یہ تمہاری جماعت اُمتِ واحدہ ہے۔ تمہاری وجہء جامعیت یہ ہے کہ میں تم سب کا نشوونما دینے والا ہوں۔ لہٰذا تم صرف میرے قوانین کی نگہداشت کرنا۔
وَلَا تَکُوْنُوْا مِنَ الْمُشْرِکِیْن O مِنَ الَّذِیْنَ فَرَّقُوْا دِیْنَھُمْ وَ کَانُوْا شِیَعًا کُلُّ حِزْبٍ بِمَا لَدَیْھِمْ فَرِحُوْنَ (30:31-32)۔
اور پھر سے مشرک نہ بن جانا __ یعنی ان لوگوں میں سے نہ ہوجانا کہ جنہوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا‘ اور اس طرح اُمتِ واحدہ رہنے کے بجائے‘ مختلف فرقوں میں تقسیم ہو گئے۔ فرقو ں میں تقسیم ہو جانے کے بعد حالت یہ ہوجاتی ہے کہ ہر فرقہ سمجھتا ہے کہ جس طریقے پر ہم چل رہے ہیں‘ وہی حق اور صداقت کی راہ ہے۔ اس لئے وہ اپنے آپ میں مگن ہو کر بیٹھ جاتا ہے۔
وَلَا تَکُوْنُوْا کَالَّذِیْنَ تَفَرَّقُوْا وَ اخْتَلَفُوْا مِنْ بَعْدِ مَاجَآءَ ھُمُ الْبَیِّنٰتُ وَاُولٰٓکَ لَھُمْ عَذَاب‘ُ عَظِیْمُ(3:105)۔
دیکھنا تم بھی کہیں ان لوگوں کی طرح نہ ہوجانا جنہوں نے اللہ کی طرف سے واضح حقائق مل جانے کے بعد فرقے بنا لیے اور آپس میں اختلاف کرنے لگ گئے۔
ایسے لوگوں پر(جو فرقوں میں تقسیم ہو جاتے ہیں اور آپس میں اختلاف کرنے لگ جاتے ہیں) سخت عذاب مسلط کر دیا جاتا ہے۔
وَمَآ اَنْزَلْنَا عَلَیْکَ الْکِتٰبَ اِلّاَ لِتُبَیِنَّ لَھُمُ الَّذِی اخْتَلَفُوْا فِیْہِ (16:64)۔
(اے رسول!) آپ پر یہ کتاب صرف اس لئے نازل کی گئی ہے کہ جن امور میں یہ لوگ باہمی اختلافات کرتے ہیں‘ آپ ان کی وضاحت کر دیں۔
اَنْ اَقِیْموُا الدِّیْنَ وَلَا تَتَفَرَّقُوْا فِیْہِ۔۔۔ (42:13)
تم سب اسی دین کو قائم کرنا اور اس میں کسی قسم کا تفرقہ نہ پید اکر دینا۔
وَمَا تَفَرَّقُوْٓا اِلّاَ مِنْ بَعْدِ مَا جَآءَ ھُمُ الْعِلْمُ بَغْیاً بَیْنَھُم (42:14)۔
اللہ تعالیٰ کی طرف سے العلم (وحی) آجانے کے بعد (جس کا مقصد تمام اختلافات کو مٹا دینا ہے) باہمی تفرقہ کی گنجائش ہی نہیں رہتی۔
*۔۔۔*۔۔۔*
سوچئے کہ قرآنِ کریم کے اِن واضح احکامات کی روشنی میں‘ مسلمانوں میں فرقوں کا وجود کس طرح جائز قرار پا سکتا ہے؟ ہمیں چاہئے کہ فرقہ بندی سے بلند ہو کر اللہ تعالیٰ کے احکامات اور رسولِ کریم ﷺ کی تعلیمات کو اپنا شعار بنائیں۔ دوسرے فرقوں پر گمراہی یا کفر کے فتوے لگانے سے بچیں کیونکہ کفر واسلام کے تعین کا حق صرف قرآنی نظامِ حکومت کو حاصل ہے نہ کہ افراد
یا فرقوں کو۔
پروردگار سے دعا ہے کہ وہ توفیق عطا فرمائے کہ ہم فرقہ بندی سے بلند ہو کر خدمتِ دین کی سعادت حاصل کریں اور فرقہ پرستی کے سبب جاری تباہی سے ہم سب کو اپنے حفظ و امان میں رکھے!
والسلام
حسین قیصرانی
*۔۔۔*۔۔۔*

Wednesday, December 11, 2013

Bahria Green Valley: Keeping a File without Paying Installment

Greetings,
As a beginner, just to familiarize with the real estate world, I want to start trading files leading to invest in plots at a later stage. I am looking into Green Valley Bahria town .
My questions
If I want to keep a file till balloting is it mandatory to pay installments till that period.
Secondly whats your opinion file for Bahria block F or green valley? Just for investment/trading.
 
===========
Dear Sir,
Salaam!
Real Estate Market in Lahore is witnessing downward trend though it seems temporary. It is good to get involved in it as one can earn high and keep the investment safe if decisions are made wisely.
For learning purpose trading in file (but only of reliable developers) is better. To remain safe it is very important that you should have sufficient funds to pay the installments in time. You may sell a file when ever there is good profit but selling in panic situation disturbs the investment a lot.
Now coming to your questions:
  1. The file would NOT be included in the balloting if all due installments (including surcharge if any) are not paid. Meaning it is mandatory to pay the installments. Moreover, as per Terms and Conditions of Bahria Town, a file would be cancelled if two consecutive installments are unpaid. Bahria Town has right to keep all the paid amount when a file membership is cancelled. Every member (buyer of file) agrees with it by signing the application form. I know that dealers give many logic and they assure the buyers that there is no need to pay installments but you should know the exact situation and make decision after understanding all the aspects.
  2. I would go for Sector F of Bahria Town as it has shaped up now. We have no (official) information about Bahria Green Valley but location of Sector F could be visited and lot of development is seen there. Ups and downs would be different for both of projects but at present Sector F seems more safe and rewarding.
Good Luck!
(Hussain Kaisrani)